نئی دہلی،15؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) این جی ٹی نے جنوبی کشمیر میں ہمالیہ میں واقع امرناتھ غار کا دورہ کرنے والے یاتریوں کو مناسب بنیادی سہولیات دستیاب نہیں کرنے کے لئے آج امرناتھ شرائن بورڈ کو پھٹکار لگائی۔ این جی ٹی نے سپریم کورٹ کی طرف سے سال 2012 میں دی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ سے پوچھا کہ ان سالوں میں اس نے اس سمت کون کون سے قدم اٹھائے ہیں۔اتھارٹی کے صدر جسٹس سوتنتر کمار کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ مندر کے قریب آپ نے دکانیں کھولنے کی اجازت دے رکھی ہے، ٹوائلٹ کی کوئی مناسب سہولت نہیں ہے، کیا آپ جانتے ہیں کہ خواتین کے لئے یہ کتنی پریشانی کی بات ہے۔ آپ نے یاتریوں کو مناسب بنیادی سہولیات دستیاب کیوں نہیں کرائی۔ آپ امرناتھ یاتریوں کی خدمات کے بجائے کاروباری سرگرمیوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے، مندر کی ’آستھا‘ کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ این جی ٹی نے ماحولیات و جنگلات کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری کی صدارت میں ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو امر ناتھ یاتریوں کو سہولیات فراہم کرنے سے متعلق تجویز کی سفارش کرے گی ۔ بنچ نے کہا کہ کمیٹی کو تحقیقات کے بعد مناسب راستے، غار کے ارد گرد کے مقام کو سائلنس زون قرار دینے اور مندر کے قریب حفظان صحت اصول کی پاسداری جیسے اہم پہلوؤں پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔کمیٹی سے علاقے میں ایکو فرینڈلی بیت الخلاء کی تعمیر کے بارے میں غور کرنے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔اتھارٹی نے شرائن بورڈ سے کہا کہ عدالت کے 2012 کی ہدایات کے ساتھ عمل سے متعلقہ رپورٹ دسمبر کے پہلے ہفتے میں پیش کی جانے کو لازم قرار دیا جائے ۔ اتھارٹی نے یہ ہدایات ماحولیاتی کارکن گوری مولیکھی کی درخواست پر سماعت کے دوران دیئے۔